ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آمریت والے ممالک، ہندوستان ٹاپ10میں شامل

آمریت والے ممالک، ہندوستان ٹاپ10میں شامل

Mon, 07 Mar 2022 10:59:23    S.O. News Service

نئی دہلی، 7؍ مامارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی)دنیا بھر میں جمہوری صورتحال کے بارے میں وی ڈیم(ویرائٹیز آف ڈیموکریسی)انسٹی ٹیوٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان دنیا کے ان10 ممالک میں شامل ہے جہاں ایک مطلق العنان حکومت ہے-اس فہرست میں ای سلواڈور، ترکی اور ہنگری شامل ہیں - وہیں رپورٹ کے اندازوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی صورتحال مزیدخراب ہو گی-

دی وائر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی رپورٹ میں ہندوستان کی درجہ بندی انتخابی تاناشاہی والے ملک کے طور پر کی گئی تھی- ہندوستان کا یہ شرمناک مظاہرہ اس سال بھی جاری رہا-اس کے نتیجے میں ہندوستان جمہوریت کے معاملے میں فہرست میں نیچے سے40سے50فیصد ممالک میں شامل ہے- 2014میں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندوستان میں جمہوریت کی سطح میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی ہے-

سویڈش انسٹی ٹیوٹ کی ڈیموکریسی رپورٹ2022آٹو کریٹائزیشن چیلنجنگ نیچر نامی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ15ممالک میں جمہوریت کی نئی لہردیکھی جارہی ہے، جبکہ32ممالک تاناشاہی کی زد میں ہیں -وی-ڈیم کے لبرل ڈیموکریسی انڈیکس (ایل ڈی آئی)کی بنیاد پر ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے، جس میں جمہوریت کے انتخابی اور لبرل دونوں پہلوؤں کو شامل کیا جاتاہے اور جمہوریت کی سب سے نچلی سطح صفر(0)اور اعلیٰ سطح (1)مانی جاتی ہے-

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایشیا پیسیفک خطے میں افغانستان، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ اور فلپائن کے ساتھ ہندوستان میں تانا شاہی رویے کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے-رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تاناشاہی کے معاملے میں سرفہرست ممالک میں سے کم از کم چھ میں تکثیریت کی مخالف جماعتوں کی حکومت ہے- یہ چھ ممالک برازیل، ہنگری، انڈیا، پولینڈ، سربیا اور ترکی ہیں -رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تکثیریت کی مخالفت کرنے والی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں میں جمہوری عمل سے وابستگی کا فقدان ہے، وہ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرتے ہیں، سیاسی مخالفین کو دبانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور سیاسی تشدد کی حمایت کرتے ہیں - یہ حکمران جماعتیں قوم پرست اور رجعت پسند ہوتی ہیں اور انہوں نے آمریت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے اقتدار کی طاقتوں کا استعمال کیا ہے-ہندوستان کے انتخابی تاناشاہی والے ممالک میں تبدیل ہونے کا تعلق نریندر مودی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے ہندو قوم پرست ایجنڈے کے نفاذ سے ہے-

پچھلے سال کی رپورٹ میں بھی یہی کہا گیا تھا-سال2021کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ2014میں بی جے پی کی مودی حکومت کے اقتدار میں آنے اور ان کے ذریعہ ہندو قومی ایجنڈے کو فروغ دینے کے بعد سے ہندوستان میں جمہوریت کی سطح میں بہت زیادہ گراوٹ دیکھی گئی ہے-سال2013کے مقابلے 2020میں 0.23پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی- 2013میں ہندوستان میں جمہوریت کی سطح اپنے عروج (0.57)پر تھی جو 2020میں گھٹ کر 0.34رہ گئی- پچھلے دس سالوں میں دنیا کے کسی بھی ملک میں یہ سب سے بڑا اتار چڑھاؤ تھا-


Share: